اپنا رشتہ دیکھ کے مجھ کو
اک کچا گھڑا یاد آیا!
وہ آنسو جو پی لیا تھا
جانے کے تیرے بعد آیا
Mansoor Naqsh
Verses
اپنا رشتہ دیکھ کے مجھ کو
اک کچا گھڑا یاد آیا!
وہ آنسو جو پی لیا تھا
جانے کے تیرے بعد آیا
جسے بچپن سے ہواؤں نے جھکائے رکھا
اُس شجر سے بھی تقاضا ہے کہ - اونچا نکلے
اک ہرن پھولوں میں پڑا سسک رہا تھا کل
قدرت اس قدر حسیں اور اتنی ظالم کیوں ہے
تیری محبت میں چلا آتا ہوں ورنہ میری
خودسری خود کو بھی نہ مانگے مجھ سے
سانس لینا جیسے اک ادھ کھلی آنکھ کا خواب
شک ہے مجھے کہ میں زندہ بھی ہوں کہ نہیں
یہ میرا خوفِ جدائی تو نہیں ذرا پھر دیکھنا
کہیں وہ ہی نہ پڑا ہو اس مٹی میں کہیں
پھر جا کے ہم اُسی قبر پہ بیٹھ گئے!
جانتے ہوئے بھی کہ مرا کوئی اور ہے
پہروں بیٹھے گنتے ہم وہ روشنیاں وہ گھنٹیاں
اور پھر صبح ہوئی تو جگنوؤں کا قافلہ مر گیا
دل کی باتیں جیسے انہی سانسوں سے جڑی تھیں
تیرے بعد میرا ہمزاد بھی خاموش - تنہا مر گیا
عادی ہوں میں بند کمرے کا
کھلی کھڑکی تو جھلس جاؤں گا
ہمارا رشتہ ٹمٹما رہا ہے
ایک جھونکا ہوا کا اور بس